بادشاہ سلامت سراج الدین کی عمر اب سو سال سے اوپر تھی۔ ان کے ہاتھوں میں کانپن تھی، آنکھوں کی بینائی مدھم پڑ چکی تھی، اور جسم جنگ کی صعوبتیں اٹھانے کے قابل نہ رہا تھا۔ مگر ان کی عقل و فراست پر زمانے کی گرد پڑنے کے بجائے چمک بڑھ گئی تھی۔ اب وہ اپنے تخت پر بیٹھے، جس کے نیچے پورا سلطنتِ خضراء پھیلی ہوئی تھی، شمال سے آنے والے طوفان کی خبر سن رہے تھے۔ دشمن فوجوں کے پاؤں کی دھمک محلات کی دیواروں تک آ رہی تھی۔
شاہی دربار میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ نوجوان جرنیل، جن کے ہاتھوں میں تلواروں کی بجائے کانپن تھی، ایک دوسرے کی طرف مایوسی بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وزیراعظم نے رپورٹ پیش کی، "قربان جاؤں بادشاہ سلامت، زنگی فوج کے پچاس ہزار سپاہی سرحد پار کر چکے ہیں۔ ہمارے پاس بمشکل دس ہزار جوان ہیں، جن میں سے زیادہ تر ناتجربہ کار ہیں۔" ایک نوجوان کمانڈر نے جوش میں آ کر کہا، "میں اپنی زندگی قربان کر دوں گا، مگر..." بادشاہ نے ایک اشارے سے اس کی بات کاٹ دی۔
سراج الدین نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔ ان کی آواز میں لرزش تھی مگر حکم کی مضبوطی برقرار تھی، "تم سب جوان ہو، تم موت سے ڈرتے ہو۔ میں بوڑھا ہوں، میں زندگی سے ڈرتا ہوں... اس زندگی سے جس میں بزدلی ہو۔" انہوں نے اپنی لمبی چھڑی کا سہارا لے کر کھڑے ہونے کی کوشش کی۔ محل کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے بولے، "میری عمر کے ہر سال نے مجھے ایک سبق دیا ہے۔ آج وہ سبق ہماری فتح بنے گا۔"
بادشاہ نے پہلا حکم جاری کیا، "تمام فوجیوں کو شہر سے باہر نکال دو۔ قلعے کے دروازے کھلے چھوڑ دو۔ بازاروں میں روٹیوں کے بھٹ تندور روشن رکھو۔ ہر گلی میں شیرینیوں کی دکانیں سجاؤ۔" وزیر حیران ہو کر بولا، "لیکن حضور..." بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا، "تمہیں یاد ہے وہ کہانی جو میں تمہیں اپنے دادا سے سنایا کرتا تھا؟ خالی قلعے والی کہانی؟" وزیر کی آنکھیں چمک اٹھیں، "جی حضور، مگر وہ تو ایک افسانہ تھا۔" بادشاہ نے جواب دیا، "ہر افسانے میں سچ کا ایک دانہ ہوتا ہے۔"
دوسرا حکم اور بھی عجیب تھا۔ "شہر کے تمام بزرگوں، جن کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہے، انہیں قلعے کی فصیل پر بٹھا دو۔ انہیں اپنے ساتھ شطرنج، چوسر، اور سہرے لے جانے دو۔" نوجوان کمانڈر نے اعتراض کیا، "مگر حضور، یہ بزرگ تو لڑ نہیں سکتے۔" بادشاہ کی آنکھوں میں ایک چمک آئی، "جوان، تمہیں پتہ ہے جنگ صرف تلواروں سے نہیں لڑی جاتی۔ بعض اوقات خاموشی، سکون، اور پراسرار مسکراہٹیں تلواروں سے زیادہ کاری ضرب لگاتی ہیں۔"
تیسرا حکم سب سے زیادہ حیران کن تھا۔ بادشاہ نے شہر کی تمام عورتوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے گھروں کی چھتوں پر رات بھر دیے روشن رکھیں اور صبح سویرے خوبصورت لباس پہن کر اپنے بال کھلے چھوڑ دیں۔ انہیں گیت گانے اور ہنستے بولتے رہنے کا حکم دیا گیا۔ "دشمن کو یہ دکھانا ہے کہ ہمارے شہر میں خوف نام کی کوئی چیز نہیں، بلکہ خوشی کی لہر دوڑ رہی ہے۔"
چوتھا اور آخری حکم بادشاہ نے اپنے لیے محفوظ رکھا۔ انہوں نے اپنا تخت قلعے کے سب سے اونچے برج پر منتقل کرنے کا حکم دیا، جہاں سے پورا میدان نظر آتا تھا۔ انہوں نے اپنے ساتھ صرف ایک باجا، ایک پرانا نقشہ، اور اپنی جوانی کی تلوار لے جانے کا فیصلہ کیا۔ وزیر نے پوچھا، "حضور، آپ وہاں تنہا کیوں؟" بادشاہ نے جواب دیا، "کیونکہ جنگ کا سب سے اہم ہتھیار دکھائی نہیں دیتا۔ وہ ہتھیار ہے دشمن کے دل و دماغ میں خوف بٹھانا۔"
جب دشمن فوجیں شہر کے قریب پہنچیں تو انہیں عجیب منظر دیکھ کر حیرت ہوئی۔ قلعے کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ بازاروں میں زندگی اپنے عروج پر تھی۔ فصیل پر بوڑھے لوگ شطرنج کھیل رہے تھے، قہقہے لگا رہے تھے۔ عورتیں چھتوں پر گیت گا رہی تھیں۔ اور سب سے اوپر برج پر ایک بوڑھا بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔
دشمن کا کمانڈر زنگی خان، جو ایک تجربہ کار جنگجو تھا، اس منظر کو دیکھ کر تذبذب میں پڑ گیا۔ اس کے مشیروں نے کہا، "سردار، یہ ضرور کوئی چال ہے۔ ہمیں پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔" مگر زنگی خان نے انکار کر دیا، "نہیں، یہ صرف ڈرامہ ہے۔ وہ بوڑھا بادشاہ ہمارے خوف سے عقل کھو بیٹھا ہے۔"
اسی دوران بادشاہ سراج الدین نے اپنا باجا بجایا۔ یہ ایک خاص سگنل تھا۔ شہر کے تمام دروازوں سے بچے نکلے، جن کے ہاتھوں میں پھول تھے۔ وہ دشمن فوج کی طرف بڑھے اور ہر سپاہی کو پھول پیش کیا۔ ایک بچے نے زنگی خان سے کہا، "بادشاہ سلامت نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا ہے۔" یہ کہہ کر اس نے ایک صندوقچہ پیش کیا۔
زنگی خان نے صندوقچہ کھولا تو اس میں اپنے بیٹے کی تصویر تھی، جو کئی سال پہلے گم ہو گیا تھا۔ ساتھ ہی ایک خط تھا جس میں لکھا تھا، "تمہارا بیٹا میرے ہاں محفوظ ہے۔ تم چاہو تو جنگ کرو، مگر یاد رکھو، ہر حملہ آور کے پیچھے ایک گھر ہوتا ہے جہاں اس کے لیے آنسو بہائے جاتے ہیں۔" یہ خط پڑھتے ہی زنگی خان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
ادھر برج پر بادشاہ نے دوسرا سگنل دیا۔ اب شہر کی تمام عورتوں نے اپنے ہاتھوں میں دیے لے کر قلعے کی فصیل پر کھڑے ہو کر گیت گانا شروع کیا۔ یہ گیت درحقیقت ایک پرانا جنگی نغمہ تھا جو سو سال پہلے سراج الدین کے دادا نے لڑی گئی ایک فیصلہ کن جنگ میں گایا تھا۔ دشمن فوج کے بوڑھے سپاہیوں کو یہ نغمہ یاد آیا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ نغمہ اس وقت گایا جاتا تھا جب فتح یقینی ہوتی تھی۔
تیسرا اور آخری سگنل دے کر بادشاہ نے اپنی تلوار نیچے پھینک دی۔ تلوار زمین پر گری اور اس کی آواز گونجتی رہی۔ یہ علامت تھی جنگ بندی کی۔ زنگی خان نے اپنے سپاہیوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔ وہ خود قلعے کے دروازے تک آیا اور للکارا، "سراج الدین! تم نے میرا بیٹا کیوں پکڑ رکھا ہے؟"
بادشاہ نے جواب دیا، "میں نے تمہارے بیٹے کو نہیں پکڑا، بلکہ تمہارے ظلم سے بچایا ہے۔ وہ تمہاری آخری جنگ میں مارا جانے والا تھا۔" یہ کہہ کر انہوں نے ایک نوجوان کو سامنے لانے کا اشارہ کیا۔ زنگی خان کا بیٹا، جو اب ایک جوان ہو چکا تھا، باہر آیا۔ اس نے اپنے باپ سے کہا، "ابا، بادشاہ سلامت نے مجھے پالا، پڑھایا، اور آج میری زندگی بچائی۔"
زنگی خان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے اپنی تلوار زمین پر پھینک دی اور بولا، "میں ہار گیا۔ تم نے نہ تلوار سے بلکہ عقل سے مجھے شکست دی۔" بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا، "نہیں، میں نے صرف تمہیں یاد دلایا ہے کہ ہر سپاہی پہلے انسان ہوتا ہے۔ اور انسان کو انسانیت سے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔"
اس دن کے بعد سے دونوں سلطنتیں امن معاہدہ کر کے رہنے لگیں۔ بادشاہ سراج الدین نے اپنی آخری جنگ لڑی تھی، جس میں ایک بھی تیر نہیں چلا، ایک بھی تلوار نہیں لگی، اور ایک بھی جان نہیں گئی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ حقیقی فتح وہ نہیں جو خون سے حاصل کی جائے، بلکہ وہ جو عقل اور انسانیت سے حاصل کی جائے۔
آج بھی جب کسی بوڑھے بزرگ سے اس جنگ کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں، "بادشاہ سلامت نے ہمیں سکھایا کہ سب سے بڑا ہتھیار انسان کا دل ہے۔ اور سب سے مضبوط قلعہ انسانیت کی فصیل ہے۔" یہ کہانی نسلوں تک سینہ بہ سینہ چلتی رہے گی، ایک ایسی جنگ کی کہانی جس میں صرف فتح ہوئی، شکست کسی کی نہ ہوئی۔