شاہی محلات کی دیواروں کے پیچھے سازشیں اپنی جڑیں پھیلائے ہوئے تھیں۔ نوجوان شہزادہ سلیم جو ابھی اٹھارہ برس کا تھا، اپنے مرحوم والد کی جگہ تخت نشین ہوا تھا مگر درباریوں کی ایک بڑی جماعت اسے نااہل اور ناتجربہ کار قرار دے کر اس کے چچا زاد بھائی شہاب الدین کو تخت پر بٹھانا چاہتی تھی۔ سازش کا مرکز وزیراعظم رحیم خان تھا، جو شہزادے کے والد کے زمانے سے ہی موقع پرستی کی چالوں میں ماہر تھا۔
شہزادی عنبرین، شہزادے کی بہن، ہر چیز کو گہری نظر سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے محسوس کیا تھا کہ جب سے اس کے والد کا انتقال ہوا ہے، درباریوں کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔ وہ سلیم کو مشورے کے بجائے احکام دینے لگے تھے۔ رحیم خان خاص طور پر ہر فیصلے میں اپنا ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا تھا۔ عنبرین کو اس بات کا یقین تھا کہ یہ سب کچھ محض اتفاق نہیں تھا۔
ایک رات عنبرین نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھا کہ وزیراعظم رحیم خان، فوج کے کمانڈر غلام رسول، اور خزانچی فضل احمد خفیہ ملاقات کر رہے تھے۔ وہ محل کے باغ کے اس حصے میں تھے جہاں عام طور پر کوئی نہیں جاتا تھا۔ عنبرین نے اپنی وفادار خادمہ فاطمہ کو بلایا، "فاطمہ، تمہیں ایک کام کرنا ہے۔ تم باغ میں جاؤ اور دیکھو کہ یہ لوگ کیا بات چیت کر رہے ہیں۔" فاطمہ نے ہامی بھری اور خاموشی سے باغ کی طرف نکل گئی۔
فاطمہ واپس آئی تو اس کے چہرے پر خوف تھا۔ "شہزادی، میں نے جو سنا ہے وہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔ وہ لوگ شہزادے سلیم کو تخت سے ہٹانے کی سازش کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اگلے مہینے ہونے والی فوجی پریڈ کے دوران شہزادے کو قتل کر کے اس کا الزام پڑوسی ریاست پر ڈال دیں۔" عنبرین کا دل دھک سے رہ گیا مگر اس نے خود کو سنبھالا۔ "ہمیں ثبوت درکار ہیں، محرفت کافی نہیں ہے۔"
عنبرین نے ایک منصوبہ بنایا۔ اس نے فاطمہ سے کہا، "تمہیں خزانچی فضل احمد کے دفتر میں جانا ہوگا۔ وہ تمام سازشی دستاویزات اپنے پاس رکھتا ہوگا۔ تمہیں وہ دستاویزات حاصل کرنی ہوں گی۔" فاطمہ نے حیرت سے پوچھا، "مگر شہزادی، وہ تو اپنے دفتر میں ہمیشہ تالا لگائے رکھتا ہے۔" عنبرین مسکرائی، "ہر تالے کی ایک چابی ہوتی ہے، اور ہر آدمی کی ایک کمزوری۔ فضل احمد کو شطرنج کھیلنے کا بہت شوق ہے۔"
اگلے دن عنبرین نے فضل احمد کو شطرنج کھیلنے کی دعوت دی۔ فضل احمد، جو اپنی عقل و ذکاوت پر نازاں تھا، نے یہ دعوت قبول کر لی۔ جب وہ شطرنج کے میز پر مصروف تھا، فاطمہ نے خفیہ طور پر اس کی چابیوں کی نقل تیار کر لی۔ رات کے اندھیرے میں، عنبرین اور فاطمہ نے فضل احمد کے دفتر میں داخل ہو کر سازشی دستاویزات ڈھونڈنا شروع کیں۔
دستاویزات مل گئیں۔ ان میں وزیراعظم رحیم خان کے خطوط، فوجی کمانڈر کے احکامات، اور تختہ پلٹنے کی مکمل منصوبہ بندی درج تھی۔ سب سے خطرناک دستاویز وہ تھی جس میں شہزادے سلیم کے قتل کا منصوبہ تفصیل سے لکھا ہوا تھا۔ عنبرین نے یہ تمام دستاویزات محفوظ کر لیں۔
اب عنبرین کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ ان ثبوتوں کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ مشکل یہ تھی کہ عدالت کے بیشتر ارکان اس سازش میں شامل تھے۔ عنبرین نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک مختلف طریقہ اپنائے گی۔ اس نے فاطمہ سے کہا، "ہمیں عوام تک پہنچنا ہوگا۔ جب عوام سچائی جان لیں گی تو پھر کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔"
عنبرین نے شہر کے معزز بزرگوں کو ایک خفیہ دعوت نامہ بھیجا۔ ان بزرگوں میں علماء، تاجر، اور قبائلی سردار شامل تھے جو دربار سے الگ تھے مگر عوام میں عزت رکھتے تھے۔ جب یہ بزرگ محل میں جمع ہوئے تو عنبرین نے ان کے سامنے تمام ثبوت پیش کیے۔ ایک بزرگ نے کہا، "شہزادی، یہ بہت سنگین الزامات ہیں۔ ہمیں یقین دلانے کے لیے مزید ثبوت درکار ہیں۔"
عنبرین نے اپنا آخری ہتھیار استعمال کیا۔ اس نے اپنے وفادار محافظوں کو حکم دیا کہ وہ فوجی کمانڈر غلام رسول کے گھر سے مزید دستاویزات برآمد کریں۔ جب یہ دستاویزات بھی سامنے آئیں تو تمام بزرگوں کو یقین ہو گیا کہ سازش حقیقی ہے۔ انہوں نے عنبرین کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے میں اس کا ساتھ دیں گے۔
اگلے روز جب دربار لگا تو وزیراعظم رحیم خان نے شہزادے سلیم سے کہا، "حضور، اگلے ہفتے فوجی پریڈ کے موقع پر آپ کو خصوصی طور پر شرکت کرنی ہوگی۔ یہ عوام کے ساتھ آپ کے تعلق کو مضبوط کرے گا۔" شہزادے سلیم نے ہامی بھرنے ہی والا تھا کہ عنبرین نے دربار میں داخل ہوتے ہوئے کہا، "نہیں بھائی، آپ اس پریڈ میں شرکت نہیں کریں گے۔"
سارے دربار میں سناٹا چھا گیا۔ رحیم خان نے غصے سے کہا، "شہزادی، یہ دربار کے معاملات ہیں، آپ کا ان میں دخل نہیں۔" عنبرین نے بے خوفی سے جواب دیا، "جب میرے بھائی کی جان خطرے میں ہو تو یہ میرا بھی معاملہ ہے۔" یہ کہہ کر اس نے تمام دستاویزات شہزادے کے سامنے رکھ دیں۔
شہزادے سلیم نے دستاویزات پڑھیں تو اس کا چہرہ غصے اور مایوسی سے سرخ ہو گیا۔ اس نے وزیراعظم کی طرف دیکھا، "کیا یہ سچ ہے؟ کیا تم واقعی میری جان لینا چاہتے ہو؟" رحیم خان نے انکار کیا، "حضور، یہ جھوٹے ثبوت ہیں۔ شہزادی آپ کو گمراہ کر رہی ہیں۔"
اسی وقت دربار میں وہ بزرگ داخل ہوئے جنہیں عنبرین نے ثبوت دکھائے تھے۔ انہوں نے کہا، "بادشاہ سلامت، ہم نے خود ان دستاویزات کا معائنہ کیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آپ کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔" اب رحیم خان اور اس کے ساتھیوں کے چہرے سفید پڑ گئے۔
شہزادے سلیم نے حکم دیا، "رحیم خان، غلام رسول، اور فضل احمد کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔" جب محافظوں نے انہیں گرفتار کرنا چاہا تو رحیم خان نے اپنی تلوار نکال لی، "میں گرفتاری قبول نہیں کروں گا۔"
تب عنبرین نے آخری کارنامہ انجام دیا۔ اس نے فوج کے ان افسروں کو اشارہ کیا جو سازش سے لاعلم تھے۔ انہوں نے رحیم خان اور اس کے ساتھیوں کو گھیر لیا۔ رحیم خان نے دیکھا کہ اب کوئی راستہ نہیں بچا تو اس نے ہتھیار ڈال دیے۔
عدالت میں مقدمہ چلا۔ تمام ثبوتوں کی روشنی میں رحیم خان، غلام رسول، اور فضل احمد کو غداری کا مجرم قرار دیا گیا۔ انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ شہزادے سلیم نے دربار کے تمام ارکان کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے نئے وزیراعظم کے طور پر ایک دیانتدار اور تجربہ کار شخص کا انتخاب کیا۔
شہزادی عنبرین کی ہوشیاری نے نہ صرف شہزادے کی جان بچائی بلکہ سلطنت کو ایک بڑی تباہی سے بھی بچا لیا۔ شہزادے سلیم نے اعلان کیا، "آج سے میری بہن عنبرین میری سب سے بڑی مشیر ہوں گی۔ اس کی عقل و فراست نے ثابت کیا ہے کہ حکمرانی صرف تلوار سے نہیں بلکہ عقل سے بھی ہوتی ہے۔"
اس واقعے کے بعد سے عنبرین کو "عقلمند شہزادی" کے نام سے جانا جانے لگا۔ اس کی ہوشیاری اور دوراندیشی کی داستانیں پوری سلطنت میں پھیل گئیں۔ لوگ کہتے تھے کہ عنبرین کی آنکھوں میں وہ بصیرت ہے جو تاریک ترین سازشوں کو بھی بے نقاب کر سکتی ہے۔
شہزادے سلیم نے عنبرین کے مشورے سے سلطنت میں اصلاحات نافذ کیں۔ انہوں نے عدالتی نظام کو مضبوط بنایا، درباریوں کے اختیارات محدود کیے، اور عوام کی آواز سننے کے لیے باقاعدہ مجالس قائم کیں۔ عنبرین نے خواتین کے لیے تعلیم کے مراکز کھولنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سالوں بعد جب شہزادے سلیم کی اولاد نے تخت سنبھالا تو انہوں نے اپنے سبق میں لکھا تھا، "ہر حکمران کو ایک ایسی آنکھ درکار ہوتی ہے جو اندھیرے میں بھی دیکھ سکے، اور ہر سلطنت کو ایک ایسی زبان درکار ہوتی ہے جو سچ بول سکے۔ میری پڑدادی عنبرین نے یہ دونوں کام کیے اور ہماری سلطنت کو زوال سے بچا لیا۔"
اور اس طرح شہزادی عنبرین کی ہوشیاری نے نہ صرف ایک سازش کو ناکام بنایا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ سبق چھوڑا کہ عقل و فراست ہر ہتھیار سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے، اور سچائی کی تلوار ہمیشہ فتح یاب ہوتی ہے۔
کیا آپ کے خاندان میں بھی کوئی ہوشیار شہزادی ہے؟ ہم سے رابطہ کریں اور اپنی کہانی شیئر کریں!