کہانی گھر

پرانا قول

بادشاہ ظہیر الدین اپنے شاہی خیمے میں بیٹھے گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ سامنے میز پر پھیلے ہوئے نقشے پر سرخ اور نیلے نشانات تھے جو دو مخالف فوجوں کی پوزیشنوں کو ظاہر کر رہے تھے۔ سلطنت کا وجود خطرے میں تھا۔ شمالی سرحد پر منگول فوجیں جمع ہو رہی تھیں جو تعداد میں ان کی فوج سے دس گنا زیادہ تھیں۔ درباریوں میں خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔ کچھ کہہ رہے تھے کہ فوری صلح کر لی جائے، کچھ جنگ چھیڑنے پر مصر تھے، اور کچھ خاموشی سے اپنی جانیں بچانے کا راستہ ڈھونڈ رہے تھے۔

بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا، "مجھے اکیلے رہنے دو۔ میں سوچنا چاہتا ہوں۔" وزیر نے سر جھکایا اور خیمے سے باہر نکل گیا۔ ظہیر الدین نے اپنی آنکھیں بند کیں۔ اس کے ذہن میں ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ سلطنت جو اس کے دادا نے قائم کی تھی، اس کے باپ نے مضبوط کی تھی، وہ اس کے ہاتھوں تباہ ہونے والی تھی۔ اسے اپنے دادا بادشاہ ناصر الدین کی یاد آئی، جو نہ صرف ایک عظیم جنگجو تھے بلکہ ایک دوراندیش حکمران بھی تھے۔

اچانک اسے ایک واقعہ یاد آیا جو اس نے بارہ سال کی عمر میں دیکھا تھا۔ اس کے دادا اسی طرح کے ایک بحران کا سامنا کر رہے تھے۔ چھوٹا ظہیر اس وقت تخت کے پیچھے چھپا کھڑا تھا جب درباری اپنے اپنے مشورے دے رہے تھے۔ سب سے آخر میں اس کے دادا نے کہا تھا، "جب دشمن کی طاقت تم سے دس گنا ہو تو اس سے براہ راست جنگ مت کرو۔ جب وہ بھوکا ہو تو اسے کھانا دو، جب وہ تھکا ہو تو اسے آرام کرنے دو، اور جب وہ کمزور ہو تو اسے دوستی کا ہاتھ دو۔" یہ قول اس کے دل میں نقش ہو گیا تھا۔

ظہیر الدین نے آنکھیں کھولیں۔ اس کے چہرے پر ایک نئی چمک تھی۔ اس نے اپنے وزیر کو بلایا اور حکم دیا، "منگول فوج کے کیمپ کے قریب ہمارے سفیر بھیجے جائیں۔ ان کے ساتھ دس ہزار من گندم، پانچ ہزار من چاول، اور تین ہزار اونٹوں پر لدا ہوا پانی لے جایا جائے۔ ہمارے بہترین طبیب اور دوائیں بھی ان کے ساتھ جائیں۔" وزیر حیران ہو کر بولا، "لیکن حضور، یہ تو دشمن کو طاقت دینے کے مترادف ہے۔" بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا، "میرے دادا کہا کرتے تھے، بعض اوقات دشمن کو طاقت دینا ہی اسے کمزور کرنے کا بہترین طریقہ ہوتا ہے۔"

منگول کیمپ میں جب سلطنت خضراء کے سفیروں نے خوراک اور ادویات پہنچائیں تو منگول کمانڈر حیران رہ گیا۔ اس نے سفیروں سے پوچھا، "تمہارا بادشاہ کیا چاہتا ہے؟ ہم تو اس پر حملہ کرنے آئے ہیں۔" سفیر نے جواب دیا، "بادشاہ سلامت کہتے ہیں کہ جنگ سے پہلے بھوکے پیٹ لڑائی نہیں ہوتی۔ آپ کے سپاہی تھکے ہوئے ہیں، بھوکے ہیں۔ پہلے آرام کریں، کھانا کھائیں، پھر فیصلہ کریں۔"

منگول فوج میں طویل سفر کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی تھیں۔ سلطنت کے طبیبوں نے ان کا علاج شروع کیا۔ سپاہیوں کو تازہ خوراک ملی تو ان کے حوصلے بدلنے لگے۔ تین دن بعد منگول کمانڈر نے بادشاہ کو پیغام بھیجا، "ہم تمہاری درخواست پر تین دن کا وقفہ دیتے ہیں۔ اس کے بعد جنگ ہوگی۔" بادشاہ نے جواب بھیجا، "تین دن کافی نہیں ہیں۔ آپ کے سپاہیوں کو مکمل آرام درکار ہے۔ ہم مزید دس دن کا وقت دیتے ہیں۔"

درباریوں میں بے چینی پھیل گئی۔ ایک جنرل نے احتجاج کیا، "حضور، ہم دشمن کو مضبوط کر رہے ہیں۔" بادشاہ نے صبر سے جواب دیا، "میرے دادا کہتے تھے، دشمن کو جب تک تم خود کمزور نہ سمجھو، وہ کمزور نہیں ہوتا۔ اور جب تم اسے مضبوط سمجھو گے تو وہ پہلے سے زیادہ کمزور ہو گا۔"

دسویں دن منگول کیمپ سے ایک عجیب خبر آئی۔ سپاہیوں نے بغاوت کر دی تھی۔ وہ گھر لوٹنا چاہتے تھے۔ منگول کمانڈر نے بادشاہ کو درخواست بھیجی کہ وہ ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ بادشاہ نے اسے اپنے خیمے میں آنے کی اجازت دی۔ منگول کمانڈر تنہا آیا۔ اس کے چہرے پر تھکاوٹ تھی۔

منگول کمانڈر نے کہا، "تم نے عجیب جنگ لڑی ہے۔ تم نے ہمیں مارنے کی بجائے بچایا ہے۔ میرے سپاہی کہتے ہیں کہ ایسے دشمن سے جنگ کرنا گناہ ہے جو تمہیں بھوکا مرنے نہیں دیتا۔" بادشاہ نے جواب دیا، "میرے دادا نے مجھے سکھایا تھا کہ اصل فتح دشمن کو مارنا نہیں، بلکہ دشمنی کو مارنا ہے۔"

منگول کمانڈر نے اپنی تلوار بادشاہ کے سامنے رکھ دی۔ "ہم ہار گئے۔ نہ تلوار سے بلکہ تمہاری حکمت سے۔ تمہارے دادا کی بات سچ تھی۔ ہم بھوکے تھے، تم نے ہمیں کھلایا۔ ہم بیمار تھے، تم نے ہمارا علاج کیا۔ اب ہم تم سے کیسے لڑ سکتے ہیں؟"

بادشاہ نے تلوار اٹھائی اور واپس کرتے ہوئے کہا, "ہم دشمن نہیں رہے۔ اب ہم اتحادی ہیں۔ تمہاری فوج یہیں رہے گی، ہمارے مہمان بن کر۔ تمہارے لوگ ہمارے کسانوں سے کھیتی باڑی سیکھیں گے، اور ہمارے لوگ تمہارے سپاہیوں سے جنگی فنون۔"

یہ سن کر منگول کمانڈر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے کہا، "میرے پاس دس ہزار سپاہی ہیں جو اب تمہارے وفادار ہیں۔" بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا, "اور میرے پاس ایک ایسا دادا تھا جس کی حکمت نے آج دس ہزار جانوں کو بچایا ہے۔"

اس واقعے کے بعد منگول فوج سلطنت خضراء کا حصہ بن گئی۔ وہ لوگ جو تباہی لانے آئے تھے، اب تعمیر میں مصروف تھے۔ بادشاہ نے انہیں سرحد کے قریب زمینیں دیں جہاں وہ آباد ہوئے۔ دونوں قوموں کے درمیان شادیاں ہوئیں، ثقافتی تبادلہ ہوا، اور ایک نئی تہذیب نے جنم لیا۔

سالوں بعد جب بادشاہ ظہیر الدین کا انتقال ہوا تو اس کا بیٹا تخت نشین ہوا۔ تاج پوشی کی تقریب میں، نئے بادشاہ نے کہا, "میرے دادا نے ایک قول میرے والد کو سکھایا تھا، اور میرے والد نے اس قول سے ایک سلطنت بچائی۔ آج میں وہی قول تم سب سے بانٹتا ہوں: 'دشمن کو کمزور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے اتنی طاقت دو کہ وہ خود اپنی طاقت سے ڈر جائے۔'"

اس سلطنت نے پانچ سو سال تک حکومت کی، اور ہر نئے بادشاہ کو تاج پوشی کے موقع پر وہی پرانا قول سنایا جاتا جو اس کے جد امجد نے اپنے پوتے کو سکھایا تھا۔ یہ قول صرف چند الفاظ نہیں تھے، بلکہ ایک پوری حکومت کرنے کی فلسفہ تھی جو نسلوں تک چلی۔

آج بھی جب کوئی بحران آتا ہے تو بزرگ کہتے ہیں، "بادشاہ ناصر الدین کا قول یاد کرو۔ ہر مشکل کا حل اس قول میں چھپا ہے۔" اور واقعی، اس پرانے قول نے کئی بار سلطنت کو تباہی سے بچایا، ثابت کرتے ہوئے کہ کچھ سچائیاں وقت کے دھارے میں بہہ جاتی ہیں مگر حکمت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

کیا آپ کے دادا یا نانا کا کوئی پرانا قول آپ کی زندگی بدل گیا؟ ہم سے رابطہ کریں اور اپنی کہانی شیئر کریں!