فوج کے کیمپ میں ایک نوجوان سپاہی طارق، جو محض انیس برس کا تھا، اپنے ساتھیوں سے الگ تھلگ بیٹھا اپنی تلوار صاف کر رہا تھا۔ وہ ایک غریب کسان کا بیٹا تھا جو سلطنت کی فوج میں بھرتی ہوا تھا تاکہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکے۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جو اس کے ہم عمر سپاہیوں میں نہیں پائی جاتی تھی۔ طارق نہ صرف جسمانی طور پر مضبوط تھا بلکہ ذہنی طور پر بھی تیز تھا۔ وہ ہر جنگ سے پہلے اور بعد میں فوجی حکمت عملیوں پر غور کرتا، اپنے کمانڈروں کی غلطیوں اور کامیابیوں کا تجزیہ کرتا۔
پہلی جنگ میں جب سلطنت کی فوج کو شکست کا سامنا تھا، طارق نے ایک چھوٹے دستے کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کے پس پردہ حملہ کر کے ان کی رسد کاٹ دی تھی۔ اس کی اس حکمت عملی نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ کمانڈر نے اس کی بہادری دیکھ کر اسے ترقی دے دی۔ طارق نے اگلے دس سالوں میں چھوٹی چھوٹی جنگی مہمات میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ نہ صرف بہادر تھا بلکہ اپنے سپاہیوں کی جانوں کی قدر کرتا، ہمیشہ کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ فتح حاصل کرنے کی کوشش کرتا۔
طارق کی بڑی کامیابی اس وقت آئی جب شمالی سرحد پر جنگلی قبائل نے سلطنت پر حملہ کر دیا۔ تمام کمانڈر ہار مان چکے تھے کہ طارق نے ایک انوکھی حکمت عملی پیش کی۔ اس نے سفارتی طریقہ اختیار کیا، قبائلی سرداروں میں پھوٹ ڈلوائی، اور پھر انہیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا۔ اس حکمت عملی سے نہ صرف جنگ جیتی گئی بلکہ وہ قبائل سلطنت کے اتحادی بن گئے۔ بادشاہ نے طارق کو اپنے سامنے بلایا اور اسے "شیر سلطنت" کا خطاب دیا۔
وقت گزرتا گیا اور طارق مسلسل ترقی کرتا رہا۔ وہ پہلے کیپٹن بنا، پھر میجر، پھر کرنل، اور آخر کار فوج کا سپہ سالار اعلیٰ مقرر ہوا۔ اب وہ سلطنت کا سب سے طاقتور جنرل تھا۔ فوج اس پر فدا تھی، عوام اس کی تعریف میں قصیدے پڑھتے تھے، اور درباری اس سے خوف کھاتے تھے۔ طارق کا محل، جو اس نے بادشاہ کے عطیہ میں بنوایا تھا، شاہی محل سے بھی زیادہ شاندار تھا۔ اس کے پاس دولت، طاقت، عزت سب کچھ تھا۔
لیکن طاقت نے اس کے دل میں ایک عجیب سا زہر گھولنا شروع کر دیا۔ وہ سوچنے لگا کہ بادشاہ تو محض ایک نام ہے، اصل طاقت تو وہ استعمال کر رہا ہے۔ کیا وہ بادشاہ سے بہتر حکمرانی نہیں کر سکتا؟ اس کے خیالات میں بغاوت کے بیج پنپنے لگے۔ وہ راتوں کو جاگتا، سوچتا کہ اگر وہ تخت پر قبضہ کر لے تو سلطنت کو کیسے چلائے گا۔
طارق کا وفادار دوست اور معاون حسن، جو اس کے ساتھ سپاہی کے طور پر بھرتی ہوا تھا، اس کی تبدیلی محسوس کر رہا تھا۔ ایک دن اس نے طارق سے کہا، "جنرل صاحب، آپ پہلے جیسے نہیں رہے۔ کیا بات ہے؟" طارق نے تلخی سے جواب دیا، "وقت بدل جاتا ہے حسن، اور انسان وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے۔" حسن نے سمجھانے کی کوشش کی، "آپ وہی طارق رہیں جو ایک سپاہی تھا اور اپنے وطن سے محبت کرتا تھا۔" مگر طارق کے کان پر جوں نہیں رینگتی تھی۔
طارق نے خفیہ طور پر اپنے وفادار افسروں کے ساتھ ملاقاتیں شروع کیں۔ وہ انہیں بغاوت کے منصوبے بتاتا، ان کے جذبات کو بھڑکاتا۔ اکثر افسر جوش میں آ جاتے، مگر کچھ سوچتے کہ یہ غداری ہے۔ ان میں سے ایک نے بادشاہ کو اطلاع دینے کا فیصلہ کیا۔
بادشاہ کو جب پتہ چلا تو وہ دل برداشتہ ہوا۔ اس نے طارق کو اپنا بیٹا سمجھا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ طارق کو ایک موقع دے گا۔ بادشاہ نے طارق کو شکار پر بلایا۔ جنگل میں جب وہ تنہا تھے، بادشاہ نے کہا، "طارق، تمہیں یاد ہے تمہاری پہلی ترقی کا دن؟ تم نے مجھے کہا تھا کہ تم نے یہ ترقی اپنے لیے نہیں بلکہ سلطنت کے لیے چاہی تھی۔" طارق نے گھبرا کر جواب دیا، "جی حضور، مجھے یاد ہے۔" بادشاہ نے اپنی تلوار نکالی اور طارق کو دی، "اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم مجھ سے بہتر حکمران ہو تو یہ تلوار لو اور مجھے مار دو۔ مگر پہلے اپنے آپ سے پوچھو، کیا تم واقعی سلطنت کے لیے ایسا کرنا چاہتے ہو یا صرف اپنے لیے؟"
طارق نے تلوار ہاتھ میں لی۔ اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ وہ بادشاہ کو دیکھتا رہا، جو بے خوف اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ اچانک طارق کو اپنی زندگی کے تمام لمحات یاد آئے۔ وہ غریب سپاہی جو سلطنت کے لیے لڑتا تھا، وہ جوان افسر جو اپنے سپاہیوں کی حفاظت کرتا تھا، وہ جنرل جو فتح کے بعد دشمن کے زخمیوں کا علاج کرواتا تھا۔ کیا یہی وہ طارق تھا جو اب بادشاہ کا قتل کرنا چاہتا تھا؟
طارق نے تلوار زمین پر پھینک دی اور روتے ہوئے بولا، "معاف کر دیجیے حضور، میں بہت بڑا جرم سوچ رہا تھا۔ طاقت نے مجھے اندھا کر دیا تھا۔" بادشاہ نے اسے گلے لگا لیا، "طارق، ہر عروج کا ایک زوال ہوتا ہے۔ تم نے اپنے آپ کو زوال سے بچا لیا۔ تمہاری یہ شکست درحقیقت تمہاری سب سے بڑی فتح ہے۔"
طارق نے اگلے دن اپنے تمام عہدے اور خطابات واپس کر دیے۔ اس نے کہا کہ وہ ایک عام سپاہی بن کر رہنا چاہتا ہے۔ مگر بادشاہ نے اسے اجازت نہ دی۔ اس نے کہا، "نہیں طارق، تمہیں اپنی غلطی سے سبق سیکھنا ہے، بھاگنا نہیں ہے۔ تم اب بھی ہمارے سب سے بڑے جنرل ہو، مگر اب تمہیں معلوم ہے کہ طاقت کا صحیح استعمال کیا ہے۔"
طارق نے اپنی باقی زندگی فوج کی اصلاح اور نوجوان سپاہیوں کی تربیت میں گزاری۔ اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا "طاقت کا امتحان"۔ اس میں اس نے اپنی کہانی بیان کی اور نصیحت کی کہ طاقت انسان کو اندھا کر دیتی ہے اگر اس میں عاجزی اور وفاداری نہ ہو۔
طارق کی کہائی سلطنت میں مشہور ہو گئی۔ نوجوان سپاہیوں کو ان کی تربیت کے دوران یہ کہانی سنائی جاتی تاکہ وہ طاقت کے نشے میں مبتلا نہ ہوں۔ طارق نے اپنی زندگی کا آخری خطاب ایک نوجوان سپاہی سے کیا، "بیٹا، یاد رکھنا، اصل بہادری دشمن کو مارنا نہیں، بلکہ اپنے اندر کے دشمن پر قابو پانا ہے۔ اور سب سے بڑا دشمن ہے تکبر، جو طاقت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔"
طارق کا انتقال ہوا تو پورے سلطنت میں سوگ منایا گیا۔ بادشاہ نے اس کی قبر پر لکھوایا، "یہاں ایک سپاہی دفن ہے جو جنرل بنا، جنرل جو بادشاہ بن سکتا تھا، مگر اپنے آپ پر قابو پا کر اصل فتح حاصل کی۔"
طارق کی داستان نسلوں تک زندہ رہی، ایک ایسے سپاہی کی کہانی جس نے طاقت کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ آج بھی فوجی اکیڈمی میں نوجوان افسر طارق کی کہانی پڑھتے ہیں اور سیکھتے ہیں کہ اصل طاقت تلوار میں نہیں، بلکہ اپنے ضمیر کی آواز سننے میں ہے۔