بادشاہ شہریار کی آنکھوں میں محبت کی وہ چمک تھی جو تاج و تخت سے بھی بلند تھی۔ جب اس نے پہلی بار نغمہ کو دیکھا، وہ شاہی باغ میں ایک معمولی پھول بیچنے والی لڑکی تھی، تو اس کا دل ایک ایسے راگ میں ڈوب گیا جو اب تک جاری تھا۔ نغمہ اب ملکہ تھی، مگر اس کی آنکھوں میں وہی سادگی تھی، ہاتھوں میں وہی مٹی کی خوشبو تھی۔ ایک دن بادشاہ نے دیکھا کہ نغمہ اپنے کمرے کی بالکونی میں ایک چھوٹے سے گملے میں پودوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ اس کے ہاتھ مٹی سے لتھڑے ہوئے تھے، مگر چہرے پر اطمینان کی ایسی روشنی تھی جو تمام شاہی زیورات سے زیادہ چمکدار تھی۔
بادشاہ نے اس لمحے ٹھان لی کہ وہ اپنی محبوبہ کے لیے دنیا کا سب سے خوبصورت باغ لگوائے گا۔ ایسا باغ جس کی مثال نہ ملتی ہو۔ اس نے اعلان کیا کہ جو شخص اس باغ کی تعمیر کا بیڑا اٹھائے گا، اسے شاہی خزانے تک کی رسائی دی جائے گی۔ شہر کے مشہور باغبانوں، فن تعمیر کے ماہرین، اور دور دراز کے سفر کرنے والوں نے اس موقع کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ آخرکار ایک بوڑھے باغبان حسنین نے، جن کے ہاتھوں نے سینکڑوں باغوں کو جنم دیا تھا، یہ ذمہ داری سنبھالی۔
حسنین نے ایک وسیع و عریض قطعہ زمین کا انتخاب کیا جو شاہی محل کے جنوب میں واقع تھا۔ اس نے کہا، "بادشاہ سلامت، یہ باغ نہ صرف آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائے گا بلکہ روح کو بھی سکون دے گا۔" بادشاہ نے خوش ہو کر پوچھا، "تمہیں کیا چاہیے؟" حسنین نے جواب دیا، "مجھے دنیا کے ہر خطے سے پھول، پودے، درخت، بیج، قلمیں چاہئیں۔ مجھے وہ سب کچھ چاہیے جو قدرت نے خوبصورتی کے نام پر پیدا کیا ہے۔" بادشاہ نے سر ہلایا، "تمہیں جو چاہیے، ملے گا۔"
اور پھر ایک عجیب و غریب تلاش کا آغاز ہوا۔ بادشاہ کے خاص قاصد دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئے۔ ایک قاصد چین کی جانب روانہ ہوا اور وہاں سے چیری کے پھولوں کے درختوں کی قلمیں لایا۔ دوسرا فارس گیا اور وہاں سے گلاب کی نایاب اقسام حاصل کیں۔ تیسرا ہندوستان کے جنگلوں میں گیا اور وہاں سے کنول اور چمپا کے پودے لایا۔ ایک قاصد تو اس سرزمین تک گیا جہاں برف ہمیشہ جمی رہتی ہے، اور وہاں سے ایسے پودے لایا جو برفانی علاقوں میں ہی پروان چڑھ سکتے تھے۔
باغ کی تعمیر میں تین سال لگے۔ ہر روز نغمہ اپنی بالکونی سے اس باغ کو بنتے دیکھتی۔ وہ خاموشی سے مسکرا دیتی مگر کچھ نہ کہتی۔ بادشاہ اکثر پوچھتا، "تمہیں کیسا لگ رہا ہے؟" نغمہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتی، "بہت خوبصورت ہے۔" مگر بادشاہ محسوس کرتا کہ اس کے جواب میں وہ جوش و جذبہ نہیں جو اس نے امید کیا تھا۔
آخرکار وہ دن آ گیا جب باغ مکمل ہو گیا۔ حسنین نے بادشاہ کو اطلاع دی کہ باغ دیکھنے کے لیے تیار ہے۔ بادشاہ نے نغمہ کا ہاتھ تھاما اور اسے باغ میں لے گیا۔ جو کچھ انہوں نے دیکھا وہ حقیقت میں ایک خواب سے کم نہ تھا۔ باغ میں ایک سے بڑھ کر ایک پھول کھلے ہوئے تھے۔ فواروں سے پانی کے چھینٹے اڑ رہے تھے۔ نہریں سنگ مرمر کے پلوں کے نیچے سے گزر رہی تھیں۔ پرندوں کی چہچہاہٹ موسیقی کی طرح سنائی دے رہی تھی۔ ہر طرف خوشبوؤں کا ایک سمندر تھا۔
بادشاہ نے فخریہ انداز میں نغمہ کی طرف دیکھا، "کیا خیال ہے؟ کیا یہ دنیا کا سب سے خوبصورت باغ ہے؟" نغمہ نے مسکراتے ہوئے کہا، "ہاں، یہ واقعی بہت خوبصورت ہے۔" مگر اس کی آواز میں وہ جوش نہیں تھا۔ بادشاہ نے پوچھا، "کیا بات ہے؟ کیا تمہیں کچھ اور چاہیے؟" نغمہ نے اپنا ہاتھ بادشاہ کے ہاتھ میں دبایا اور کہا، "مجھے ایک چیز دکھانی ہے۔"
نغمہ بادشاہ کو باغ کے ایک کونے میں لے گئی۔ وہاں، ایک سنگ مرمر کے بنچ کے پیچھے، ایک چھوٹا سا پودا لگا ہوا تھا۔ یہ ایک عام سا گیندا کا پودا تھا، جس پر چند پیلے پھول کھلے ہوئے تھے۔ نغمہ نے کہا، "یہ وہ پھول ہے جو میں نے خود لگایا ہے۔" بادشاہ نے حیرت سے دیکھا، "لیکن یہ تو بہت عام سا پھول ہے۔ اس باغ میں تو اس سے کہیں زیادہ خوبصورت اور نایاب پھول ہیں۔"
نغمہ نے پودے کو چھوتے ہوئے کہا، "شہریار، تم نے میرے لیے یہ سارا باغ بنوایا، مگر تمہیں یاد ہے کہ ہم پہلی بار کہاں ملے تھے؟" بادشاہ نے کہا، "شاہی باغ میں۔" نغمہ نے مسکرا کر کہا، "اور میں وہاں کیا کر رہی تھی؟" بادشاہ کو یاد آیا، "تم پھول بیچ رہی تھیں۔" نغمہ نے کہا, "اور یہ وہی گیندا ہے جو میں اُس دن بیچ رہی تھی۔ تم نے میری ٹوکری کا سارا پھول خرید لیا تھا، مگر یہ ایک پھول میرے ہاتھ میں رہ گیا تھا۔ میں نے اسے اپنے گھر لگا دیا تھا۔"
بادشاہ نے حیرت سے پوچھا، "کیا یہ وہی پھول ہے؟" نغمہ نے ہاں میں سر ہلایا، "میں نے اس کی قلم یہاں لگائی ہے۔ یہ میرے لیے اس باغ کا سب سے خوبصورت پھول ہے کیونکہ یہ میری محبت کی نشانی ہے۔ تم نے دنیا بھر سے پھول منگوائے، مگر میں نے تو صرف ایک پھول میں ہی تمہیں پا لیا تھا۔"
اس لمحے بادشاہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اسے سمجھ آیا کہ نغمہ کے لیے خوبصورتی کا مطلب قیمتی پودے نہیں، بلکہ جذبات کی قدر تھی۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ تین سال سے ایک ایسی چیز کی تلاش میں تھا جو پہلے ہی اس کے پاس موجود تھی۔
بادشاہ نے نغمہ کو گلے لگا لیا اور کہا، "تم نے مجھے سکھا دیا کہ محبت کی قیمت اس کی نایابی میں نہیں، بلکہ اس کے خلوص میں ہوتی ہے۔" نغمہ نے اس کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا, "ہر پھول اپنی جگہ خوبصورت ہے، مگر وہ پھول جسے تم خود لگاؤ، اس کی خوشبو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہتی ہے۔"
اس دن کے بعد بادشاہ نے حکم دیا کہ اس باغ کے درمیان میں ایک چھوٹا سا حصہ مخصوص کیا جائے جہاں کوئی نایاب پودا نہ لگایا جائے۔ اس حصے میں عام پھول لگائے گئے، وہی پھول جو غریب لوگ اپنے گھروں میں لگاتے ہیں۔ بادشاہ اور نغمہ ہفتے میں ایک بار یہاں آتے اور خود ہاتھوں سے پودوں کی دیکھ بھال کرتے۔
ایک دن بادشاہ نے پوچھا, "نغمہ، اگر تمہیں کوئی ایک تحفہ مانگنے کو کہا جائے تو تم کیا مانگو گی؟" نغمہ نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جواب دیا, "میں مانگوں گی کہ ہر شخص کے پاس اپنے ہاتھوں سے لگایا ہوا ایک پودا ہو، چاہے وہ گملے میں ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ جب انسان مٹی کو چھوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو بھولتا نہیں۔"
بادشاہ نے اس دن اعلان کیا کہ سلطنت کا ہر شہری اپنے گھر میں کم از کم ایک پودا لگائے گا۔ اس کے لیے مفت بیج اور قلمیں تقسیم کی گئیں۔ جلد ہی پوری سلطنت سرسبز و شاداب ہو گئی۔ لوگوں نے محسوس کیا کہ جب وہ پودوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں ایک عجیب سا سکون اور خوشی پیدا ہوتی ہے۔
آج بھی جب کوئی اس شاہی باغ میں جاتا ہے تو اسے دو حصے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف دنیا بھر کے نایاب پودے ہیں، اور دوسری طرف ایک چھوٹا سا حصہ جہاں عام پھول کھلتے ہیں۔ اس حصے کے دروازے پر تختی لگی ہوئی ہے جس پر لکھا ہے: "یہاں دنیا کا سب سے خوبصورت پھول کھلتا ہے، جس کی جڑوں میں محبت ہے اور پنکھڑیوں میں خلوص۔"
نغمہ کی موت کے بعد بادشاہ نے اسی باغ میں اپنی زندگی کے آخری دن گزارے۔ وہ روزانہ اسی گیندا کے پودے کے پاس بیٹھتا، جو اب ایک بڑا درخت بن چکا تھا، اور اس کی پنکھڑیوں میں اپنی محبوبہ کو ڈھونڈتا۔ اس نے اپنی وصیت میں لکھا، "مجھے نغمہ کے پھول کے پاس دفن کیا جائے، کیونکہ میں نے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی تحفہ اسی پھول میں پایا تھا۔"
اور یوں ایک بادشاہ کی محبت کی کہانی ایک پھول میں سمٹ گئی، جو ہمیشہ کے لیے سلطنت کی سب سے خوبصورت داستان بن گئی۔ آج بھی جب کوئی اس باغ میں جاتا ہے تو بزرگ اسے وہ کہانی سناتے ہیں کہ کس طرح ایک بادشاہ نے دنیا بھر کے پھول اکٹھے کیے، مگر اس کی محبوبہ کے دل میں تو وہی ایک پھول بسا ہوا تھا جو اس کے اپنے ہاتھوں سے اگیا تھا۔